آج کل پاکستان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو سمجھ
نہیں آتاکہ کس پہلو کے حوالے سے بات کی جائے ۔ کیوں کہ پاکستان کی موجودہ
صورتحال ہم سب کے سامنے ہے۔ کہیں عوام بجٹ سے پریشان ہے تو کہیں پانی
کی کمی ، بجلی کی لوڈشیڈنگ ، ٹریفک کے مسائل اور ٹیکسیس کی ادائیگی وغیرہ
سے غرض ان گنت مسائل ہیں جن کا حل ہونا بہت ضروری ہے ۔
پرانے زمانے میں بادشاہوں کے دور سلطنت میں ایک ایسا وقت بھی آتا تھا جب
ملک میں ہر طرح کا امن و امان ،ا طمینان، چین و سکون نصیب ہوتا تھا اور
عدل و انصاف کا دور دورہ ہوتا تھا اور عوام بھی خوش وخرم ، خوش حال اور
پر سکون ہوتی تھی اور مہاورتہً یہ کہا جاتا تھا کہ راوی چین ہی چین لکھتا ہے ۔
ہم مانتے ہیں کہ دور حا ضر میں کسی ملک کے لئے بھی پورے وثوق سے یہ
بات نہیں کہی جاسکتی کہ راوی چین ہی چین لکھتا ہے ۔ کیوںکہ ہر ملک میں
روز ہی نئے نئے مسا ئل جنم لے رہے ہوتے ہیں ا گر چہ باقا عدہ ان کا حل اور
تدارک بھی کیا جاتا ہے لیکن دنیا کے مسا ئل تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے
ہیں بلکہ روز بروز بڑھتے ہی جا رہے ہیں بلکہ پرانے مسئلے ابھی حل بھی نہیں
ہوتے کہ نئے مسائلل جنم لے لیتے ہیں ۔
لیکن پا کستان کے حال کی کیا بات کریں کہ یہاں پرانے مسائل تو ابھی پوری طرح
حل بھی نہیں ہوئے ہیں اور جوں کے توں اپنی جگہ موجود ہیں جیسے پانی کا
مسئلہ، بجلی کا مسئلہ، بے روز گاری کا مسئلہ ، مہنگائی کا مسئلہ وغیرہ وغیرہ
کہ نئے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں حا لانکہ دیکھا جائے توہر مسئلہ کا کوئی نہ
کوئی حل ضرور ہوتا ہے۔ اصل میں مسائل کی ایک لمبی فہرست ہماری کوتاہیوں ،
ہماری نا عاقبت اندیشی کے سبب ہماری خود مرتب کردہ ہے ۔
اس لفظ ہم میں ہم سب ھی شامل ہیں چاہے وہ عوام ہو ، ذمہ دار عہدے داران
ہوں یا سیاست داں وغیرہ ۔ لیکن پھر بھی اس لفظ ;ہم میں ہم ان لوگوں کو شامل
نہیں کریں گے جو واقعی مخلص ہیں، درد مند ہیں اورمسائل کو حل کرنے میں
کوشاں ہیں ۔اب چاہے وہ عوام میں سے ہوں یا ذمہ دار عہدے داران میں سے یا
سیاست دانوں وغیرہ میں سے ۔ ایسے مخلص ، سچے ، دردمند ، محنتی، انسانیت
سے محبت کرنے والے لوگ ہمارے لئے قابل تعظیم ہیں ۔اور ایسے لوگوں کو برا
کہنا یا ان کے خلوص کا یہ بدلہ دینا یا کسی چیز کے لئے انھیں مورد الزام ٹھرانا
احسان فراموشی کے زمرے میں شامل ہوگا۔
خیر ہم بات کر رہے ہیں ان لوگوں کی جن کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ ہے ۔ جو نہ
کسی کے لئے درد مند دل رکھتے ہیں نہ خلوص ۔ جو صرف خودغرضی کا شکار
ہیں ۔ یہ لوگ ملک کے مسائل تو کیا خاک حل کرتے ہیں بلکہ الٹا مسائل کے پہاڑ
میں اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں اورمزے کی بات یہ ہے کہ اپنی خودغرضی اور
کوتاہیوں کو چھپا کر مسائل کا الزام دوسروں کے سر تھونپ کر بری الذمہ ہو جاتے
ہیں ۔اور مسائل کو حل کرنے کے لئےاتنی کوشش، اتنی تگ و دو نہیں کرتے جتنا
ان کا رونا روتے ہیں ۔
ہروز ایک نہ ایک مسئلہ یا بلکہ یہ کہنا چا ہیئےکہ نئے نئےمسائل کا انبار جنم لیتا
ہے۔
اور ایک بات تو بلکل ہی سمجھ نہیں آتی کہ جن قابل ترین اہل علم ، تجربہ کارذہین
لوگوں یعنی عہدیداروں کو ان مسائل کے حل کے لئے متعین کیا گیا ہوتا ہے ان کو
تو حل نظر نہیں آتا اور وہ حل ہی نہیں کر پاتے۔ بس کوششیں کرتے ہی نظر آتے
ہیں جبکہ عوام میں سے اکثر کے پاس یعنی ایک معمولی ذہانت کے شخص کے
پاس بھی ان بڑے پہاڑ جیسے مسائل کا کچھ نہ کچھ آسان حل ضرور موجود ہوتا
ہے یا وہ کوئی نہ کوئی سوچ رکھتا ہے ، رائے رکھتا ہے ۔
سیاست کے میدان میں تو میں تو لگتا ہے کہ ایک جنگ چھڑی ہوئی ہے ایک
دوسرے کو نیچا دکھانے کی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی ۔
سیدھی سی بات ہے اسلام بہترین نظام حیات ہے غلطی یا عیب سے کوئی شخص
مبرا نہیں لیکن اگر غلطی کرنے والا اپنی غلطی یا کوتاہی پر شرمندہ ہو کر اپنی
غلطی مان لے اور اس کا ازالہ بھی کردے تو معاشرے میں امن و سکون پیدا ہوتا
ہے لیکن بس لگتا ہے اب یہ تصوّرتو خواب ہی ہوگیا ہے کہ کوئی غلطی کرنے والا
اپنی غلطی تسلیم کرلے ۔
کیا ہی سنہرے لوگ تھے وہ جو اتنے شرم دار ،غیرت منداور عذت دار تھے کہ
خیال رکھتے تھے اور فکر کرتے تھے اس بات کی کہ کہیں ان سے جانے انجانے
میں ایسی کوئی غلطی یا کوتاہی سرزد نہ ہوجائے جس میں ان سے کسی کی حق
تلفی ہو یا اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی ہو قیامت کے دن وہ کیسے حقدار کو
اس کا حق ادا کرپا ئیں گےاور کیسے اپنی غلطیوں کا ازالہ کر پائیں گے ۔ وہ اپنے
آپ کو اس بات کا پابند رکھتے تھے کہ وہ کبھی ایسا کچھ نہ کریں کہ کوئی ا ن
کی طرف انگلی بھی اٹھائے کہ انھوں نے یہ کیا ۔یا ان سے کوئی ایسی غلطی نہ
ہوجائے جو ان کی عذت کی دھجیاں نہ بکھیر دے ۔
لیکن اب تو اگر غلطی یا کوتاہیاں بھی ہو جائیں تو ساری کوشش اپنے آپ کو
صحیح ثابت کرنے میں لگا دیتے ہیں اب چاہے انھیں اس کے لئے جھوٹ بولنا پڑے
یا کوئی اوچھا ہتھکنڈا اختیار کرنا پڑے اپنی غلطی چھپانے اور اپنے آپ کو صحیح
ثابت کرنے میں نہ صرف اپنی ساری توانائیاں خرچ کر ڈالتے ہیں بلکہ ایڑی چوٹی
کا زور لگا دیتے ہیں ۔
تو جناب کیسے راوی چین ہی چین لکھے گا ۔
راوی چین ہی چین لکھتا ہے ۔
Reviewed by Admin
on
July 04, 2019
Rating: